HomePortalGallerySearchRegisterLog in

Share | 
 

 قرآن اور جن:سائنسی تجزیہ

View previous topic View next topic Go down 
AuthorMessage
FantasyGirl
Co-Admin
Co-Admin
avatar

Posts : 531
Join date : 2009-08-28

PostSubject: قرآن اور جن:سائنسی تجزیہ   Mon Aug 31, 2009 11:30 pm

قرآن اور جن:سائنسی تجزیہ

پروفیسر ادویات برائے لوئس ویل یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن
جن کی حقیقت اور جدید سائنس ۔یہ عنوان فکر کی دعوت دیتاہے اور ہماری فکر
کو مزید تحقیق کے لئے تحریک دیتاہے۔موجودہ دور میں مسلم دانشوروں
،سائندانوںاور طلباءکے لئے یہ ایک ایسا عنوان ہے جس پر غور کیا جانا چاہئے۔
قرآن شریف میں جن کے تعلق سے کئی مقامات پر تذکرہ آتاہے اور بعض مقامات پر
اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ اللہ جلّ شانہ نے انسان کو مٹی اور پانی سے
تخلیق کیا ہے۔سائنسی تحقیق سے اس حکم ربانی کی تائید ہوجاتی ہے اور سچ
ثابت ہوتاہے۔لیکن جہاں تک جن کے تخلیق اور جن کی ماہیئت و تخلیقی عناصر کی
بات ہے تو قرآنشریف میں اس مخلوق کے تخلیقی عناصر کی بات آگ سے کہی گئی
ہے۔یعنی انہیںآگ کے شعلہ سے تخلیق کیا گیاہے۔قرآن شریف کے معروف انگریزی
ترجمہ نگار اے یوسف علی نے اپنے ترجمہ کے 929آیت میں لکھا کہ جن صرف ”ایک
روح“ہے یا ایک نظر نہیں آنے والی خفیہ طاقت ۔اس بات کا تذکرہ انگریزی
ترجمہ شدہ کتا ب ”عربین نائٹس“میں بھی ملتاہے۔جس میں یہ انسانی شکل میں
وارد ہوتا ہے یا تصوراتی شکل میںوارد ہوتاہے ۔لیکن ان معاملات کو اب ہم
سائنسی نکتہ نظر سے دیکھتے ہیں ۔قرآن میں احکام ربانی ہے:
”اے معاشرہ جن!ہم نے تخلیق کی ایک دہکتے ہوئے آگ کے شعلوں سے“اپنے 1967کے
حاشیہ میں یوسف علی کہتے ہیںکہ ”خفیہ اور نظر نہیںآنے والی طاقتیں آگ سے
اٹھنے والے شعلوں کے ساتھ وابستہ ہیں“(آیت 27)لیکن اس بات کی سائنسی توضیح
قرآن شریف میں اس طرح کی گئی ہے:
”اور اس نے پید اکیا جن کو آگ سے،آگ جو شعلہ کی شکل میںتھا“۔(آیت 15)قرآن شریف میں ایک پوری سورہ¿ جن موجود ہے۔
انگلینڈ کے دوسرے مترجم جنہوںنے قرآن شریف کا انگریزی ترجمہ کیا محمد
مرماڈوک پکھتال انہوں نے لفظ جن کی وضاحت دوسرے طریقہ سے کی ہے ۔انہوں نے
لکھاکہ اس لفظ ’جن ‘ کا مفہوم باہری سے یعنی خارجی سے ہے۔جس کا مطلب یہ
ہوا کہ ایک ایسی مخلوق جس کی تخلیق زمین یا اس کی مٹی سے نہیں کی گئی۔
ان حوالوں کو ذہن میں رکھنا ہوگا اسلئے کہ آئندہ مضمون کی بنیاد انہیں
حوالوں کے پس منظر میں رکھی جائے گی۔اس سائنسی نکتہ نظر سے اس مضمون میں
بحث کی گئی ہے۔
موجودہ نظریہ یہ ہے کہ صرف اسی زمینی سیارہ پر انتہائی ذہین مخلوق انسان
موجود ہے ۔ورنہ اس کائنات کے دیگر کروڑوں کروڑ سیاروں اور ستاروں میں
انسانی آبادی کسی میں بھی نہیں۔
1927میں سرفرانس ینگ ہسبینڈ نے اپنی کتاب ”لائف ان دی اسٹارس“(شائع جان
مورے ،لندن)میں کچھ ستاروںمیں آباد مخلوق کا تذکرہ کیا ۔انہوںنے لکھا کہ
ان ستاروں میں آباد مخلوق فرشتوں کی قسم سے ہیں۔جغرافیائی اصول کے مطابق
سورج بھی ایک ستارہ ہے۔
یہاں ایک بات قابل غور ہے کہ دنیا کے کسی بھی مذہب میںجن کا تصور نہیں ہے
اور نہ ان کا تذکرہ موجود ہے۔اس زمین پر زندگی کا انحصا ر کاربن اور پانی
پر ہے۔زمین پر رہنے والی ہر ایک جاندار مخلوق کے لئے توانائی کی ضرورت ہے
اور اس کی زندگی کی بقا کے لئے ضروری و لازمی ہے تاکہ وہ حرکتوں میںرہ
سکے۔ان حرکتوں میں سے کچھ حرکات کو کیمیکل رد عمل بھی کہا جاسکتاہے اور اس
رد عمل کے لئے توانائی کی ضرورت ہے۔اس توانائی کا حصول غذا سے ہوتا ہے اور
اس غذا میں خصوصیت سے شکر کی اہمیت زیادہ ہے۔اسطرح روغنیات بھی توانائی کے
حصول کا ایک اہم جز ہے۔اس شکر کو جسمانی نظام میں گلوکوز کہتے ہیں۔جب شکر
کاربن اور آکسیجن کے ساتھ ہم آمیز ہوتاہے تو یہ پانی میں تبدیل ہوجاتاہے
اور کاربن ڈائی آکسائڈ کی تکسیدتوانائی میں ہوجاتی ہے۔اسی عمل کو سانس
لینے اور چھوڑنے کا عمل یعنی نظام تنفس بھی کہا جاتاہے۔اسی طرح کسی بھی
سیارہ یا ستارہ میں موجود کسی مخلوق کے لئے توانائی کی ضرورت ہے خواہ وہ
سورج ہو یا کوئی اور ستارہ ،وہاں کی جاندار مخلوق کو زندہ رہنے کے لئے
توانائی چاہئے۔خصوصی طورپر وہ مخلوق جو سورج کے اندر ہے ۔ظاہر سی بات ہے
کہ سورج خود انہیں یہ توانائی مہیا کرتاہے۔
سورج کے اندر زندگی:
سورج کے اندر زندگی کا ہونا،جاندار یا کسی مخلوق کا ہونا ایک اندازہ پر
منحصر کرتاہے اور اس کے لئے ایک اصول کو تسلیم کر لیا گیا ہے جس کا تعلق
کیمسٹری اور فزکس یعنی علم طبعیات سے ہے۔اسی مفروضہ کو ذہن میں رکھ کر
سائنسدانوں نے سورج پرکسی جاندار یا کسی زندگی کے ہونے کی باتوں پر مدلل
بحث کی ہے ۔لیکن یہ بحث سائنسی نکتہ نظر سے اور کیمسٹری اور علم طبعیات کے
نکتہ نظر سے ہے ۔یہ تسلیم کرلیا گیا کہ سورج میں مخلوق ہے اورجاندار ہے
اور اس میں حیات ہے۔اب سورج کی اپنی شکل و صور ت کیا ہے ،اس کی وضاحت
ضروری ہے۔
سورج کا سب سے بالائی حصہ کروموسفیر اور کورونا(Chromosphere and
Corona)کہا جاتا ہے۔اس سطح پر 4ہزار ڈگری سنٹی گریڈ حرارت موجود ہے ۔اسی
کورونا (Corona)کے نیچے فوٹوزفیئر (Photosphere)کی سطح ہے ۔جہاں کی حدت
پانچ ہزار سات سو ڈگری سنٹی گریڈ ہے۔یہ حدت سورج کے بالائی سطح پر
ہے۔فوٹوز فیئر(Photosphere)کے اندرونی سطح کو پلازما اندرونی (Plasma
Interior)کہا جاتاہے۔اس مقام پر حدت 30ہزار ڈگری سنٹی گریڈ ہے۔اس حدت میں
ایٹم اپنے الیکٹرونس کو خارج کردیتا ہے۔جو آزادانہ طورپر گردش کرتے ہیں
اور متحرک ہوتے ہیں۔اس گرم گیس کی کثافت زمین پر موجود سطح پر ہوا کی
کثافت کے برابر ہے۔سورج کو اگر مرکز تسلیم کرلیں تو اس کے نصف فاصلہ پر
حدت کئی ملین ڈگری سنٹی گریڈ ہوجاتی ہے۔اس مقام پر الیکٹرون ایٹم سے مکمل
طور پر جدا ہوجاتے ہیں اور آزادانہ طورپر متحرک ہوجاتے ہیں۔یہ ایٹمک
نیوکلیئر کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں اور ا ن کی حیثیت مثبت طورپر توانائی
حاصل کئے ہوئے آئی اونس کی ہوتی ہے۔یہ جدا ہوئے مثبت اور منفی آئی اونس
ایک دوسرے سے جدا ہوکر آزادانہ متحرک ہوتے ہیں۔اسی کیفیت کو پلازما
(Plasma)کہا جاتاہے۔اس پلازما(Plasma)کی وضاحت بغیر دھواں والی آگ یعنی
دہکتے ہوئے شعلہ کے طور پر کی جاسکتی ہے۔غالبًا قرآن مجید میں اسی آگ کا
تذکرہ کیا گیاہے۔
سورج کے درمیان کا حصہ کور (Core)کہا جاتا ہے ۔ اس مقام پر سورج کی حدت دس
ملین ڈگری سینٹی گریڈ پہنچ جاتی ہے اور اس کا حجم سونا سے جو ٹھوس حالت
میں ہواس سے پانچ گنا زیادہ ہوتا ہے۔یہی حجم کور (Core)کا ہے۔جو زمین پر
پائے جانے والے کسی بھی معدنیات یا مادہ سے بہت زیادہ ہے ۔اس کو ر
(Core)میں نیوکلیئر فیوژن کا ردعمل ہوتاہے جس سے ہائڈروجن کی آمیزش یا
پگھلاﺅ ہوتاہے اور یہ ہائڈروجن نیوکلی (Nuclie)ہیلٹم میں تبدیل ہوجاتاہے
اور اس سے توانائی آزادانہ طورپر کنارہ کش ہوجاتی ہے
(NFR+FH2+Helium=Libration of Energy)اور یہی وہ توانائی ہے جو سطح زمین
پر دھوپ کی شکل میں وارد ہوتی ہے یعنی سورج کی روشنی ہی وہ آزادتوانائی ہے
۔ہائڈروجن بم نیوکلیئر ہم آمیزی کے اصول پر ہی کام کرتاہے۔جب کہ ایٹم بم
کی کارکردگی ایٹمک نیوکلس کے پھیلاﺅ پر یعنی انتشار کی بنیا د پر ہوتی ہے۔
جی فین برگ اور آر ۔شیپیرو(G.Feinberg and R.Shapiro)جیسے سائنسدانوں نے
اپنی کتاب ”لائف بی یانڈ ارتھ“(Life Beyond Earth)(شائع :نیویارک 1980)میں
اس خیال کا اظہار کیا کہ اس بات کاقوی امکان ہے کہ پلازما (Plasma)میں
زندگی کے آثار موجو د ہوں۔سورج میں یا دیگر ستاروں میں زندگی کے قوی
امکانات ہیں۔ان جاندارمخلوق کو سائندانوں نے پلازما بیسٹ (Plasma Beast)کا
نام دیاہے۔اسی پلازما بیسٹ (Plasma Beast)کو اس مخلوق سے تعبیر کیا جاسکتا
ہے جسے جن کہتے ہیں۔اس زمینی زندگی کو کیمیکل لائف کہا جاتاہے۔جب کہ سورج
کے پلازما میں امکانی زندگی کا دارو مدار فزیکل لائف (Physical Life)پر
ہے۔پلازما کے اندر مثبت طورپر توانائی کی تحصیل کئے ہوئے آئی اونس اور
آزادانہ حرکت کرتے ہوئے الیکٹرونس (منفی آئی اونس)دونوں ہی سورج میں موجود
زبردست مقناطیسی طاقت کے تحت متحرک ہوتے ہیں ۔جن کی تخلیق کی وضاحت اس طرح
کی جاسکتی ہے کہ یہ مقناطیسی طاقت کے اصولوں پر تخلیق کئے گئے ہیں۔جو یکجا
ہیں ۔متحرک توانائی کے تحصیل کردہ کے طورپر اور ان کی شکل یا ہیئت ایک
سمبوسس (Symbiosis)کی ہے۔اس بات کا قوی امکان ہے کہ پلازما لینڈ کے باشندے
یہی ہیں۔(جو قابل رہائش ایک مقام ہے)جب کہ جن کے متعلق ایک الجھن اور ہے
کہ ان کی زندگی مقناطیسی توانائی سے وابستہ ہے یا نہیں۔اس لئے کہ منفی اور
مثبت آئی اونس ایک دوسرے کے ساتھ ہم آمیز ہوتے ہیں۔اور مقناطیسی کشش کی
موجودگی پر عمل پیش کرتے ہیں۔جن کی ٹھہر ی ہوئی حالت اور اس کی حرکت اسی
مقناطیسی طاقت سے متاثر ہوتی ہے۔علم طبعیات میں ہم جانتے ہیں کہ حرکت کرتے
ہوئے رفتار کو جو برقی چارجیز سے پیدا ہوتی ہے اسے متاثر کرتے ہیں یا آئی
اونس سے ،یہ کیفیت پروٹین اور نیوکلی ایسڈ کے اثر جیسی ہے جو زمین پر
زندگی یا حیات کے لئے موجود ہے۔کلی طورپر یہ کہا جاسکتا ہے کہ آزاد
توانائی کی سپلائی کی ضرورت ہوتی ہے جسے سورج کے برقی لہروں کے پھیلاﺅ سے
حاصل کیا جاسکتا ہے۔اس لئے اس بات کا امکان ہے کہ جن اسی برقی توانائی
کانام ہو جو اپنی طاقت کے اعتبار سے کافی قوی ہے۔
Back to top Go down
MJKT
Co-Admin
Co-Admin
avatar

Posts : 655
Join date : 2009-08-28
Age : 31
Location : Multan (PAKISTAN)

PostSubject: Re: قرآن اور جن:سائنسی تجزیہ   Tue Sep 01, 2009 8:38 am

thank u for sharing
ju true hota haie samnaa aa kar rehta haie
Back to top Go down
Khan jee313
New Friend
New Friend
avatar

Posts : 15
Join date : 2009-09-01
Age : 36
Location : Swabi (Pakistan)

PostSubject: Re: قرآن اور جن:سائنسی تجزیہ   Tue Sep 01, 2009 9:06 am

nice hay cheers
Back to top Go down
FantasyGirl
Co-Admin
Co-Admin
avatar

Posts : 531
Join date : 2009-08-28

PostSubject: Re: قرآن اور جن:سائنسی تجزیہ   Tue Sep 01, 2009 3:32 pm

ji MJKT jo Qura Pak ain ha wo sab sach ha
lakin ab is ko yeh log prove ker rahe hai
Back to top Go down
Admin
Administrator
Administrator


Posts : 60
Join date : 2009-08-28

PostSubject: Re: قرآن اور جن:سائنسی تجزیہ   Sat Sep 05, 2009 12:22 am

Alhamdullillah.............Qaran e pak me jo such hey wo aahista aahista science prove karegi.
Back to top Go down
http://dosti.friendhood.net
Muhammadi
Good Friend
Good Friend
avatar

Posts : 118
Join date : 2009-09-02

PostSubject: Re: قرآن اور جن:سائنسی تجزیہ   Sat Sep 05, 2009 10:46 am

thank u for sharing
ju true hota haie samnaa aa kar rehta haie
Back to top Go down
MJKT
Co-Admin
Co-Admin
avatar

Posts : 655
Join date : 2009-08-28
Age : 31
Location : Multan (PAKISTAN)

PostSubject: Re: قرآن اور جن:سائنسی تجزیہ   Sun Sep 06, 2009 6:52 pm

jee Quran kii sab batein Prove hoon gee
Back to top Go down
Sponsored content




PostSubject: Re: قرآن اور جن:سائنسی تجزیہ   

Back to top Go down
 
قرآن اور جن:سائنسی تجزیہ
View previous topic View next topic Back to top 
Page 1 of 1

Permissions in this forum:You cannot reply to topics in this forum
The Place Where The Hearts Meet :: The World of Information :: Computer, Science & Technology-
Jump to: